Introduction:
یہ آیات سورۃ النحل (16:61) کی ہیں۔

surah nahl ayat 61 urdu tarjuma and Tafseer
“اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے فوراً پکڑ لیتا تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہتا، لیکن وہ انہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دیتا ہے۔ پھر جب ان کا مقررہ وقت آ جاتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے رہ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔”
Tafseer
یہ آیت اللہ تعالیٰ کی دو بڑی صفات کو نمایاں کرتی ہے: قدرت اور حلم۔
پہلا پہلو یہ ہے کہ انسان اپنی کوتاہیوں اور زیادتیوں کے باوجود زندہ ہے، سانس لے رہا ہے اور مواقع پا رہا ہے۔ اگر ہر گناہ پر فوراً سزا ملتی تو انسانی آبادی باقی نہ رہتی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا نظام محض فوری سزا پر قائم نہیں بلکہ مہلت اور اصلاح کے اصول پر چل رہا ہے۔
دوسرا پہلو مقررہ وقت کا ہے۔ ہر فرد، ہر قوم اور ہر نظام کے لیے ایک حد مقرر ہے۔ یہ مہلت ہمیشہ کے لیے نہیں۔ جب وہ وقت مکمل ہو جاتا ہے تو نہ کوئی تاخیر ممکن ہے اور نہ پیش قدمی۔ اس حقیقت سے انسان کو اپنی زندگی کی قدر سمجھنی چاہیے۔
تیسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ مہلت کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ تاخیر دراصل امتحان ہے۔ اللہ انسان کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے رویے درست کرے، توبہ کرے اور عدل و بھلائی کی طرف لوٹے۔ لیکن اگر کوئی مسلسل سرکشی اختیار کرے تو انجام یقینی ہے۔
مختصر یہ کہ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کا انصاف یقینی ہے، مگر اس کا نظام صبر اور حکمت کے ساتھ چلتا ہے۔ انسان کے پاس وقت ہے، مگر یہ وقت محدود ہے۔
Allah Pak ki Shan:


Surah nahl with urdu translation pdf:
Refrence – https://hamariweb.com/islam/download-Surah-Nahl-arabic-translation-pdf
Surah nahl with urdu translation pdf:
Refrence – https://hamariweb.com/islam/download-Surah-Nahl-urdu-translation-pdf
