Surah nahl ayat 112 with urdu translation:


Surah nahl ayat 112 with urdu tarjuma:
ترجمہ
آیت 112:
اور اللہ ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو امن اور اطمینان والی تھی، ہر طرف سے اسے کشادہ رزق ملتا تھا، پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اس کے اعمال کی وجہ سے اسے بھوک اور خوف کا لباس چکھا دیا۔
آیت 113:
اور بے شک ان کے پاس انہی میں سے ایک رسول آیا تو انہوں نے اسے جھٹلایا، پھر عذاب نے انہیں اس حال میں آ لیا کہ وہ ظلم کرنے والے تھے۔
آیت 114:
پس اللہ نے جو حلال اور پاکیزہ رزق تمہیں دیا ہے اسے کھاؤ اور اگر تم واقعی اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو تو اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
Surah nahl ayat 112 with urdu tarjuma and tafseer:
1۔ امن اور خوشحالی کی مثال
اللہ تعالیٰ ایک ایسی بستی کی مثال دیتے ہیں جو مکمل امن میں تھی۔ وہاں نہ دشمن کا خوف تھا اور نہ فاقہ کشی۔ رزق بھی ہر طرف سے آسانی سے پہنچتا تھا۔ یہ مثال اس بات کو سمجھانے کے لیے ہے کہ جب قومیں اللہ کی نعمتوں کی قدر کرتی ہیں تو انہیں سکون اور برکت نصیب ہوتی ہے۔
2۔ ناشکری کا انجام
جب اس بستی کے لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کی، سرکشی اختیار کی اور ناشکری کی روش اپنائی تو اللہ نے ان پر خوف اور بھوک مسلط کر دی۔ “لباس” کا لفظ اس لیے استعمال ہوا کہ جیسے لباس انسان کو ہر طرف سے گھیر لیتا ہے، ویسے ہی بھوک اور خوف نے انہیں گھیر لیا۔
3۔ رسول کی تکذیب
اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے انہی میں سے رسول بھیجا، لیکن انہوں نے انکار کیا۔ جب قوم نصیحت قبول نہیں کرتی اور ظلم پر قائم رہتی ہے تو عذاب آتا ہے۔ یہ ایک الٰہی قانون ہے۔
4۔ شکرگزاری کی تعلیم
آخر میں مومنوں کو ہدایت دی گئی کہ حلال اور پاک رزق کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ اصل کامیابی صرف نعمت حاصل کرنا نہیں بلکہ اس پر شکر ادا کرنا ہے۔ شکر دل، زبان اور عمل تینوں سے ہوتا ہے۔
Ending words:
خلاصہ
ان آیات میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ امن، خوشحالی اور رزق اللہ کی نعمتیں ہیں۔ اگر قومیں شکر گزار رہیں تو نعمتیں قائم رہتی ہیں، اور اگر ناشکری کریں تو خوف اور تنگی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ لہٰذا ہر حال میں اللہ کی اطاعت اور شکرگزاری ضروری ہے۔
