Intro of Namaz in Urdu
Namaz ki fazilat Quran aur hadees mein wazeh tor par bayan hui hai. Namaz momin ka me’raj hai, gunahon ko mitati hai, rooh ko sukoon deti hai aur Allah se qurbat ka zariya banti hai.
Namaz ka farz hona ka zikr kis Surah mein hai?
Namaz ka farz hona Surah An-Nisa, Ayat 102 mein zikr hua hai, jahan namaz ki pabandi aur us ki ahmiyat wazeh tor par bayan ki gayi hai.
In Which Surah Is the Obligation of Salah (Namaz) Mentioned?
The obligation of Salah (Namaz) is mentioned in Surah An-Nisa, Ayah 102. In this verse, Allah clearly emphasizes the importance of establishing prayer and explains that prayer is prescribed for believers at fixed times. This highlights that Salah is not optional but a compulsory act of worship for Muslims.
Namaz ki fazilat in Quran

Namaz ki fazilat in Surah Baqarah

اورفرماتاہے :وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ○( البقرۃ: آیت۴۳)
ترجمہ : نمازقائم کرواور زکاۃ اداکرو او ررکوع کرنے والوں کے ساتھ نماز پڑھو۔یعنی مسلمانوں کے ساتھ کہ رکوع ہماری شریعت میں ہے یا تو پھرباجماعت سے نماز ادا کرو۔
Namaz ki fazilat in War


Namaz Ke Baad – Zikr Allah ki fazilat in urdu “Quran”
جب تم نماز پڑھ لو تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرو۔
پھر جب تم مطمئن ہو جاؤ تو حسب معمول نماز قائم کرو۔
بے شک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔
اور کافروں کی تلاش میں سستی نہ کرو، اگر تم دکھ پاتے ہو تو وہ بھی ویسا ہی دکھ پاتے ہیں۔
Namaz ki fazilat hadees
فجر و عصر پڑھنے والا جہنّم میں نہیں جائے گا
حضرت عُمارَہ بن رُوَیْبہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطفےٰجانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے سورج کے طلوع و غُرُوب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نَماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہرگز جہنّم میں داخِل نہ ہوگا۔“
(مسلم، ص 250، حدیث: 1436)
فجر و عصر کی فضیلت کی حکمت
حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ فجر و عصر کی پابندی کرنے والا دوزخ میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہ جائے گا، اگر گیا تو عارِضی (یعنی وقتی )طور پر۔ لہٰذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں
کہ بعض لوگ قیامت میں نمازیں لے کر آئیں گے مگر ان کی نمازیں اہلِ حُقوق(یعنی جن کے حقوق پامال کئے ہوں گے اُن) کو دلوا دی جائیں گی۔دوسرے یہ کہ فجر و عصر کی پابندی کرنے والوں کو اِن شاءَ اللہ باقی نمازوں کی بھی توفیق ملے گی اور سارے گناہوں سے بچنے کی بھی، کیونکہ یہی نمازیں (نفس پر) زیادہ بھاری ہیں۔ جب ان پر پابندی کرلی تو اِن شاءَ اللہ بقیہ نمازوں پر بھی پابندی کرے گا، لہٰذا اس حدیث پر یہ اعتِراض نہیں کہ نَجات کے لیے صرف یہ دو نمازیں ہی کافی ہیں باقی کی ضَرورت نہیں ۔ خیال رہے کہ ان دو نمازوں میں دن رات کے فِرِشتے جمع ہوتے ہیں ، نیز یہ دن کے کَناروں کی نمازیں ہیں ، نیز یہ دونوں نفس پر گِراں (یعنی بھاری) ہیں کہ صُبْح سونے کا وقت ہے اور عصر کا روبار کے فروغ(یعنی زور و شور) کا، لہٰذا ان (نمازوں ) کا دَرَجہ زیادہ ہے۔(مراٰۃ المناجیح، 1/394)
آمِنہ کے چاند نے آسمان کا چاند دیکھ کر فرمایا
حضرت جَریر بن عبدُ اللہ رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں :ہم حضورِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضِر تھے، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے چو دھویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر اِرشاد فرمایا: ” عنقریب (یعنی قیامت کے دن) تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اِس چاند کو دیکھ رہے ہو، تو اگر تم لوگوں سے ہوسکے تو نمازِ فجر و عصر کبھی نہ چھوڑو۔“ پھر حضرتِ جَریر بن عبدُ اللہ رضی اللہُ عنہ نے یہ آیتِ مبارَکہ پڑھی:
وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَاۚ
(پ 16، طٰہٰ: 130)ترجَمۂ کنز الایمان: ”اور اپنے رب کو سَراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے۔“ (مسلم، ص 239، حدیث: 1434 ملخصاً)
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے ابوبشر سے بیان کیا، انہوں نے یوسف بن ماہک سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے، انہوں نے کہا ایک سفر میں جو ہم نے کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اس وقت ملے جب ( عصر کی ) نماز کا وقت آن پہنچا تھا ہم ( جلدی جلدی ) وضو کر رہے تھے۔ پس پاؤں کو خوب دھونے کے بدل ہم یوں ہی سا دھو رہے تھے۔ ( یہ حال دیکھ کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے پکارا دیکھو ایڑیوں کی خرابی دوزخ سے ہونے والی ہے دو یا تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ہی بلند آواز سے ) فرمایا۔
